8 مئی 2012 - 19:30

پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے آج ایک بیان میں ایسی حالت میں قبل از وقت مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے کہ بعض پریس ذرائع نے ان کے مستعفی ہونے کی وجہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں جاری کشیدگی بتائی ہے جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہ جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے فرانس پریس سے گفتگو میں استعفے کی وجہ ذاتی وجوہات بتائی ہیں ۔

ابنا: پاکستان کے تقریبا سبھی ذرائع ابلاغ خاصطور سے دنیا ٹیلیویژن چینل نے ایک رپورٹ میں پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کے مستعفی ہونے کی وجہ،مہمند ایجنسی میں پاکستان کی ایک فوجی چوکی پر گذشتہ سال کے نیٹو کے حملے اور امریکی سی آئی اے کے کارکن ریمنڈ ڈیوس کے کیس جیسے مسائل پر امریکی حکومت کے ساتھہ ان کے اختلافات ہونا بتائی ہے ۔ پاکستان کی فوجی چوکی پر نیٹو کا حملہ کہ جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں کشیدگی کا نقطۂ آغاز شمار ہوتا ہے ۔

پاکستان کے اس ٹیلیویژن چینل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ کیمرون منٹر کو اس وقت بھی حکومت پاکستان کے ساتھہ حکومت امریکہ کے تعلقات کے طریقۂ کار پر اختلاف ہے ۔ ادھر وہائٹ ہاؤس بھی منٹر کو پاکستان کیلئے امریکہ کا مناسب سفیر نہیں سمجھتا اور اس کا خیال ہے کہ واشنگٹن نے اسلام آباد میں مشن کی انجام دہی کیلئے ان کا انتخاب کرکے ایک غلطی کی ہے ۔

اس وقت پاکستان میں کیمرون منٹر کی جگہ نئے سفیر کی تعیناتی کے بارے میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں جاری ہیں اور بعض رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کے ایک سینئر عہدیدار ریچرڈ اولسن کو جو سنہ 2011 سے افغانستان میں سرگرم عمل ہیں پاکستان میں سفیر کی حیثیت سے متعّین کیا جائے گا تاہم بعض ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے ایک سابق سفارتکار این ڈبلیو پٹرسن کو متعّین کیا جائیگا ۔

بعض صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیمرون منٹر، امریکہ کی خارجہ پالیسی منجملہ پاکستان و جنگ افغانستان کے بارے میں واشنگٹن کے طرز عمل کے بارے میں وہائٹ ہاؤس کے حکمرانوں سے گہرا اختلاف رکھتے ہیں اور ان کے مستعفی ہونے کی وجہ بھی یہی ہے اور شاید اسی بناء پر کیمرون منٹر نے ابھی کچھہ عرصے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ مسئلۂ افغانستان صرف اس ملک کے راہنما ہی حل کرسکتے ہیں ۔

اخبار ڈیلی ٹائمز کے مطابق پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں افغانستان کے مسائل کے حوالے سے اندرونی طریقۂ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن،کابل کی صرف مدد کرسکتے ہیں ۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مسئلۂ افغانستان،طالبان کے ساتھہ صلح مذاکرات سے حکومت افغانستان کے نمائندوں کو علیحدہ رکھنے سے حل نہیں ہوسکتا ۔

پاکستان میں امریکی سفیر نے اسی طرح اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ واشنگٹن نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تعمیرنو سے متعلق منصوبوں پر عمل نہیں کیا ہے اور اس سلسلے میں لاپرواہی برتی گئی ہے ۔ چنانچے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کے ان نظریات کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان و امریکہ، افغانستان کے مسائل کے حل، خاصطور سے تشّدد کو کنٹرول کرنے میں اپنا اہم کردار ادا نہیں کرسکتے ۔

بہرحال امریکی سفیر نے یہ سب بیانات ایسی حالت میں دئے ہیں کہ امریکہ کے اہم سیاسی و فوجی حکام خود کو افغانستان میں تبدیلیوں کا اہم عامل سمجھتے ہیں اور اس وقت انھوں نے حکومت کابل کے نمائندوں کے بغیر طالبان گروہ کے ساتھہ دو طرفہ مذاکرات کا مسئلہ اپنے ایجنڈے میں شامل کررکھا ہے ۔
........

/169